ch

مشاہیرچین،چین کے انقلا بی راہنما ئوں کی داستا نیں

ہمارے ہمسایہ ملک چین کے بارے میں اردو ادب میں اتنا کم مواد موجود ہے کہ ہمیں چین کی تاریخ، سیاست، تمدن اور ادب کے متعلق بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ حالانکہ چین کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو علم و تہذیب کا گہوارہ رہا اور جس سے ساری دنیا نے فیضان حاصل کیا ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس سرچشمۂ تمدن کا اتنا مختصر اور موہوم تذکرہ اردو میں ملتا ہے کہ ہم اس کی صحیح عظمت کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتے۔
دنیا میں سب سے قدیم تاریخ چین کی ہے جس کا سلسلہ آج سے ساڑھے چار ہزار سال قبل سے شروع ہوتا ہے۔ اس دراز عرصے میں چین کی سرزمین سے نامور ادیب، فلسفی، حکیم، آرٹسٹ، سیّاس، مدبر اور جنگجو سبھی پیدا ہوئے۔ ان بیسیوں مشاہیر میں، میں نے صرف اُن فرزندان چین کا ذکر کیا ہے جنہوں نے چین کی تاریخ بنائی اور اس کی تقدیر بدلی۔ ان کی حیات چین کے معراج کی داستان ہے جو اپنی فضیلت اور رفعت میں اس قدر بلند تھے کہ انہیں مشاہیر عالم میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ساڑھے چار ہزار سال کی طویل مدت میں ان نو اکابران چین کا تذکرہ ایک طرح سے چین کی تاریخ بھی ہے۔ مگر صرف عظمت اور معراج کے ادوار کی حامل۔

قیاس کیا جاتا ہے کہ چین کی تاریخ یسوع مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے تین ہزار سال قبل سے شروع ہوتی ہے۔چین کی سیاسی تاریخ کا آغاز 200 ق م سے ہوا جب چین کے ’’شہنشاہ اول‘‘ شی ہوانگ ٹی نے تمام چین کو فتح کرکے عظیم تر چین کی بنیاد رکھی۔ شی ہوانگ ٹی کے خاندان نے ایک عرصہ تک چین پر حکمرانی کی۔ عروج و زوال کے ان ادوار میں اس وقت خلل پیدا ہوا جبکہ تیرہویں صدی میں منگولوں نے چین پر حملہ کیا اور فتح کر لیا۔ اس نئی سلطنت کا بانی مشہور فاتح قبلہ خان تھا۔ یہ حملہ آور چین فتح کرنے کے بعد چین میں مقیم ہو کر یوں گم ہو گئے کہ ان کی اپنی انفرادیت اور قومی خصوصیات بھی جاتی رہیں۔ وہ ملک کی رینی میں رنگ گئے۔ اس کے بعد سترہویں صدی میں شمال سے مانچو قبیلے نے چین پر حملہ کر دیا اور فتح کرنے کے بعد اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی جو 1911ء میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی اور ایک نئے نظام یعنی جمہوریت کے لئے جگہ بنائی۔
china
چین پر تقریباً چوبیس خاندانوں اور قبیلوں نے حکومت کی۔ اس جہانبانی میں چین کو عروج و زوال کی جن منزلوں سے گزرنا پڑا وہ اس ملک کی سیاسی تاریخ کے مطالعہ سے ظاہر ہوگا۔ اس ساری مدت میں ہمیں چینیوں کی اس انفرادیت کا پتہ ملتا ہے کہ وہ علیحدہ پسند حکمت عملی کے دلدادہ اور پرستار تھے۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ غیر اقوام سے تعلقات پیدا کریں۔ بیرونی دنیا سے چین کے جو تعلقات رہے ہیں وہ صرف تجارتی تھے۔ جب 1792ء میں جارج سوم شہنشاہ انگلستان نے اپنے قاصد لارڈ میکارٹنی کو دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کے لیء چین بھجوایا تو فرمانروا ئے چین چائن لنگ نے جواب دیا :
’’ہمیں کسی ملک سے تعلقات پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں ہماری ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ ہم اپنے آپ میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنی انفرادیت کو کھو دینا پسند نہیں کرتے ۔‘‘
اس جواب نے اور چین میں کوٹو کے رواج نے میکارٹنی کو ناکام و نامراد لوٹنے پر مجبور کر دیا۔

جب صنعتی انقلاب نے استعماریت اور نوآبادکاری کو مغربی ممالک کا جزو سیاست قرار دیدیا، چین کی دولت معدنیات اور زراعت اور قوم کی سیاسی و ذہنی پستی نے ان کی توجہ ادھر مبذول کرائی تو وہ ملک جو صدیوں سے علیحدگی پسند حکمت عملی پر رواں دواں تھا، انگلستان فرانس، امریکہ، جرمنی، ، بلجیئم، روس اور جاپان کے حریصانہ عزائم کی آماجگاہ بنا۔ ہر ایک نے چین کے استحصال کے لئے مختلف ترکیبوں سے اپنا قدم آگے بڑھایا۔ کوئی ایک ہاتھ میں انجیل لیکر آیا اور دوسرا ایک ہاتھ میں افیون لیکر داخل ہوا،اور چین میں داخل ہو کر اس قدر انتشار پیدا کر دیا کہ چین کی تقدیر میں اگر سن یات سین اور چیانگ کائی شیک نہ ہوتے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ملک کا کیا حشر ہوتا۔ ڈاکٹر سن اور مارشل چیانگ نے اس پسماندہ ملک کو وہ درجہ عطاء کیا ہے کہ اتحادی اب چین کو اپنا حلیف اور رفیق قرار دیتے ہیں۔

ایسے ملک کی تاریخ جو اسلام، بدھ مت، چین مت اور عیسائیت کا بہت بڑا مرکز ہے اور ایک عرصہ دراز سے روحانیت کا گہوارہ رہا ہے۔ ہر سوچنے والے دماغ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان تاریکیوں اور پردوں کو ہٹائے جو اس کی عظمت و معراج پر پڑے ہوئے ہیں تاکہ اس کی عظمت کا صحیح مقام متعین ہو سکے اور اس احیاء سے درس لیا جائے جو ایک پسماندہ اور زوال پذیر ملک نے استبداد، جبر، مطلق العنانی اور غیر اقوام کے استحصال کے خلاف ہو کر پھر اپنی سابقہ عظمت کو بحال کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے انجام دی ہیں۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم چینی ساحروں، منجموں اور پھیری والے ’’عبداللہ‘‘ اور ’’جان‘‘ کے سوا کسی چینی سے کوئی ذہنی یا شخصی تعارف نہیں رکھتے۔ چینی بڑے فن کار، حساس اور شعور ی ہیں۔ ریشم کی صنعت میں جو مصوری کے جو کمال انہوں نے بتلائے ہیں ان کا شمار عجائبات عالم میں ہوتا ہے۔ ان کے بنائے ہوئے ظروف دنیا کے عجائب خانوں میں ایک عجوبہ روزگار بن کر دنیا کو متعجب کئے دیتے ہیں۔

چینیوں کی انفرادیت کا ایک ثبوت ان کی طرز تحریر سے ہمیں ملتا ہے۔ ساری دنیا دائیں سے بائیں اور بائیں اور دائیں طرف لکھتی ہے مگر چینی اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر لکھتے ہیں۔ ان کے پاس صوتی الفاظ نہیں ہیں بلکہ ان کے الفاظ علامات ہیں جن کے خاص خاص مفہوم ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ چینی ہی فن تحریر کے موجد ہیں اور ان کی یہ طرز تحریر موجودہ تحریر کی بنیاد ہے جس کا بعد میں ارتقاء ہوا۔

چینیوں کا ایک امتیازی وصف ان کے سروں کی چوٹیاں اور ان کی عورتوں کے جکڑے ہوئے پیرہیں۔ چوٹیوں کے رکھے جانے کے متعلق یہ روایت ہے کہ سر کے بال خاص باپ کے ہوتے ہیں اور یہ نسلاً بعد نسلاً چلتے رہتے ہیں۔ اس لئے اپنے اجداد کی یاد تازہ رکھنے کے لئے سر پر چوٹیاں رکھی جاتی ہیں۔ عورتوں کے پیر جکڑے رکھنے کی یہ تاویل دی جاتی ہے کہ چینیوں کے تئیں عورتوں کی خوبصورتی کا یہ ایک جوہر ہے۔ بعض یہ بھی سمجھتے ہیں کہ چینی مردوں نے عورتوں کے پیر اس لئے جکڑنا شروع کر دیئے کہ وہ کسی نامحرم کے ساتھ بھاگ نہ جائیں۔

چین اسلام اور بدھ مت کا بہت بڑا مرکز ہے۔ کہتے ہیں کہ مشرقی ایشیا میں پہلی مسجد سرزمین چین ہی میں تعمیر ہوئی تھی ۔ اس باعظمت ہمسایہ کی انفرادی خصوصیات اور اس کی معراج کی داستانیں تفصیل کی محتاج ہیں۔ آج وقت کا یہ تقاضا ہے کہ ہم چین کی سیاست، تہذیب و تمدن کا مطالعہ کریں۔ جس طرح زمانہ قدیم میں چین نے تہذیب و تمدن کی تاسیس اور ارتقاء و بقاء میں پہل اور قیادت کی تھی، آج بھی یہ سہرا چین ہی کے سر ہے۔

فاشسٹ درندگی کے خلاف ابتداء میں کمزور چین ہی نے ہتھیار اٹھائے۔ چینی عوام مادر وطن کی راہ میں بے شمار قربانیاں دیتے ہوئے آزادی اور ترقی کی جانب جس سرعت سے آگے بڑھے جا رہے ہیں وہ دنیا کی ہر محکموم اور پسماندہ ملک کے لئے عمل کا ایک خاموش مگر بولتا ہوا پیام ہے۔

جہاں تک مشاہیر کے انتخاب کا تعلق ہے ۔ میں نے ہزاروں سال کی تاریخ میں بیسیوں مشاہیر میں سے ان زعمائے چین کو منتخب کیا ہے جو چین کے خالق اور معمار ہیں۔ کنفوشیس اور لیوزے روحانیت کے اس دور کے پیشوا ہیں جب ساری دنیا اسی دور سے گزر رہی تھی۔ ان کا شمار دنیا کے مشاہیر میں ہوتا ہے۔ شی ہوانگ ٹی اور چائن لنگ چین کی سیاسی عظمت کے مسیحا ہیں۔ ملکہ ڈائویجر صرف ایک خاتون ہے جس نے چین پر حکمرانی کی۔ وہ مدبر تھی، سیاست دان تھی اور میدان جنگ کی فاتح تھی اور وہ آخری یادگار تھی جس کے عہد میں چین کی شہنشہایت دم توڑ رہی تھی۔

ڈاکٹر سن یات سین اور جزیسمو چیانگ کائی شیک چین کے نہیں دنیا کے مشاہیر ہیں۔ ان کی حیات سوتی ہوئی قوموں کے لئے بیداری کا نعرہ ، زوال پذیر قوموں کے لئے بیداری اور انقلاب کا ایک پیام ہے۔ مائوزے تونگ چینی اشتمالی جماعت کے صدر تھے ۔ تاریخ عالم کا حیرت انگیز واقعہ ’’طویل مسافت‘‘ کی کامیابی جو اشتمالی تحریک کے فروغ کی بنیاد بھی تھا، مائوزے تونگ اور چوتھے کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ مائوذے اور چوتھے انقلابی اور اشتمالی تحریک کے ناخدا ہیں۔ کسی سیاح نے ان کے متعلق کہا ہے :
’’ مائوزے چین کا لینن اور چوتھے چین کا ٹموشنکو ہے۔‘‘

پستی سے نکل کر یہ دونوں محبان قوم جذبہ حب الوطنی کے باعث افق پر درخشاں ہوئے اور سوئے ہوئے چینی عوام کو جگایا، انہیں متحد کیا اور آزادی کی جنگ میں شریک کیا۔

چین کے مشاہیر اور یہ انقلابی راہنما دنیائے اردو میں پہلی دفعہ متعارف ہو رہے ہیں۔ میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ مشرق کے ممتاز ترین مشاہیر کے تذکرے سے نیم بیدار لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

میر عابد علی خان

یہ دلچسپ اور منفرد کتاب حاصل کرنے کے لئے ہم سے رابطہ کریں ۔
فیکٹ پبلی کیشنز علی پلازہ سکینڈ فلور ٹیمپل روڈ لاہور، فون: 36374538-042


Leave a Comment