مشہور اشعار ، گُمنام شاعر
یہ عنوان بذات خود ایک بہت بڑا موضوع ہے جس نے دل جیت لیے۔ یہ شاعری ہر خاص و عام کی زبان بن گئیں۔ آخر ان مشہور اشعار کے خالق کیوں گمنام رہ گئے؟یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ اس مقدمے کا مقصد یہی ہے کہ ہم ان گمشدہ صدائوں کو تلاش کریں، ان کے پیچھے چھپی انسانی کیفیتوں کو سمجھیں اور اس عمل سے جڑے وہ معاشرتی، ادبی اور تاریخی عوامل بے لاگ انداز میں بیان کریں جو اردو ادب کو زبوں حالی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
شعر کبھی محض الفاظ نہیں ہوتے، وہ جذبات، تجربات اور زمانے کی عکاسی ہوتے ہیں۔ مگر جب ایک شعر محفلوں کے شور، اخبارات کے سرِورق یا سوشل شیئرنگ کی تیز دھار میں بکھر جاتا ہے، تو اس کی شناخت بھی کھو جاتی ہے۔ گمنامی بعض اوقات نیت کی نہیں ہوتی، ناقص حوالہ نویسی، اَن گنت نقول، یا محض اس لیے کہ لوگ خوب صورت مصرع کو پسند کر لیتے ہیں اور اس کی موزونیت میں شاعر کا نام شامل کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ اس طرح شعر اپنا اصل مالک کھو دیتا ہے۔ اس سنگین غلطی نے کئی ایسے شعراء کو ہمیشہ کے لیے غائب کر دیا جو ممکن ہے اپنی سادگی، درد یا بصیرت سے اردو کے خزانے میں قیمتی شے چھوڑ ہیں۔
اردو ادب کی زبوں حالی ایک الگ موضوع ہے، مگر گمنامی اسی زوال کا علامتی عکس بھی ہے۔ ماضی میں شعر و شاعری کو عزتِ خاص حاصل تھی، محافل، ادبی مذ اکرے اور ادبی رسائل ایک ایسی سرپرستی فراہم کرتے تھے جن سے شاعر کو مقام، پہچان اور حوالہ ملتا تھا۔ آج کے دور میں منظر نامہ بدل گیا ہے۔ اگرچہ معلوماتی بہاؤ تیز ہوا ہے، مگر اس کے ساتھ ادبی معیار کم ہوگیا ہے۔ کم علمی، تجارتی میلانات، فوری شہرت کے چِکر اور رسمی حوالہ نویسی کی کمی…. یہ سب مل کر اس زوال میں حصہ ڈالتے ہیں۔ جب ادب کو محض نشانی یا برانڈ کے طور پر دیکھا جائے تو شاعر کا نام ثانوی ہوجاتا ہے اور شعر سرِ دست عام استعمال کی چیز بن کر رہ جاتا ہے۔
گمنامی کے کچھ منظر مثبت پہلو بھی رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک شعر کی عالمگیر قبولیت اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ الفاظ ذاتی شناخت سے بڑھ کر انسانی تجربے کی مشترکہ زبان بن چکے ہیں۔ مگر یہ دلیل بھی اپنے اندر تذبذب رکھتی ہے۔اگر شاعر کی محنت اور تخلیق کا اعتراف نہ کیا جائے تو مستقبل کے لکھنے والوں کے لیے حوصلہ کم ہوگا اور ادبی محنت کی قدر زائل ہو جائے گی۔ اس لیے ہمیں گمنامی کی قبولیت اور شاعر کے اعتراف کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
آخر میں آپ قارئین سے ایک نرم مگر پر خلوص گزارش ہے: جب بھی کوئی مصرع آپ کے دل کو چھو لے، ایک لمحہ نکال کر اس کے خالق تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ سوال پوچھیں، تحقیق کریں اور جہاں تک ممکن ہو اپنے حلقہ اثر میں شاعر کا نام پہنچائیں۔ یہ نہ صرف ایک چھوٹا سا احسان ہوگا، بلکہ اردو ادب کو زندہ رکھنے کا ایک عملی طریقہ بھی ہوگا۔ گمنام اشعار کی یہ دنیا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ الفاظ خود بولتے ہیںَ اگر ہم نے ان اشعار اور شاعروں کو بچا لیا تو ادب نے اپنی روح کو محفوظ رکھا ہوگا۔
خلیق الزمان صاحب مبارک بادکے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کے ذریعے اتنا بڑا کام کیا ہے۔
یہ مقدمہ اسی امید کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ آپ اس کتاب کو پڑھ کر نہ صرف خوش ہوں گے، بلکہ شاعری کو اس کے حامل کے ساتھ منسلک رکھنے کی ذمہ داری بھی محسوس کریں گے۔
Mashoor Shayr Gumnam Shayar | مشہور شعر گمنام شاعر
₨700.00
* Rs.200 Flat Delivery Charges of Orders Below Rs.2000
Categories: New Arrivals, Poetry
Reviews
There are no reviews yet.

Be the first to review “Mashoor Shayr Gumnam Shayar | مشہور شعر گمنام شاعر”